عمران خان کی ریاست مدینہ

(سید عبدالوہاب شیرازی)

وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے الیکشن سے قبل بھی اور خاص طور پر الیکشن جیتنے کے بعد کئی بار پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اور ریاست مدینہ کے کچھ کارناموں کا ذکر بھی کیا۔ لیکن ایک عام پاکستانی شہری بالخصوص ایک عام مسلمان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ریاست مدینہ کیا ہے۔ اتنی بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ریاست مدینہ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ وہ حکومت تھی جو مدینہ میں قائم ہوئی اور پھر پھیلتی چلی گئی۔ جسے خلافت راشدہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس ریاست مدینہ میں کیا کیا خوبیاں تھیں اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس لیے پاکستانی عوام کو یہ بتانا اور ایجوکیٹ کرنا نہایت ضروری ہے کہ ریاست مدینہ کیا تھی اور اس ریاست نے اس معاشرے میں کیا کیا اصلاحات کیں اور ان کے کیا اثرات اور نتائج مرتب ہوئے۔

آپ اکثر سیرت کے جلسوں میں قران پاک کی یہ آیت کریمہ سنتے ہوں گے:

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة(سورہ احزاب)

تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نمونہ ہے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمام انسانوں کے لیے نمونہ ہے، بالکل اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاست تمام دنیا کی ریاستوں کے لیے نمونہ ہے۔

Nukta Colum 003

اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ انسانی زندگی کے چھ گوشے ہیں۔ یعنی ہر انسان کا اپنی زندگی میں ان چھ گوشوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح تعلق ضرور رہتا ہے، اور یہی چھ گوشے مل کر ایک مکمل انسانی زندگی کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ۱۔عقائد، ۲۔عبادات، ۳۔رسومات، ۴معاشرت، ۵۔معیشت، ۶۔سیاست۔

دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی حد تک اپنی زندگی میں ان چھ گوشوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی عقیدہ ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی طریقہ عبودیت ہوتا ہے۔ ہر آدمی کچھ نہ کچھ رسومات رکھتا ہے۔ ہرآدمی اجتماعی زندگی میں معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور اس کا کسی نہ کسی طور پر معیشت اور سیاست کے ساتھ بھی تعلق واسطہ ہوتا ہے۔

ریاست مدینہ کی یہی واحد خوبی تھی کہ اس نے انسانی زندگی کے ان چھ گوشوں میں ایسی ایسی اصلاحات کیں کہ نہ اس سے پہلے کوئی کرسکا اور نہ اس کے بعد۔

          1۔عقائد

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی تو آپ نے سب سے پہلا کام لوگوں کے عقائد ونظریات کی درستگی کا کیا، اور عرب کے اس جاہل معاشرے میں نظریہ توحید کی داغ بیل ڈالی۔ عرب کے اس معاشرے میں لوگوں کے مختلف عقائد تھے۔ کوئی ایک خدا مانتا تھا تو کوئی تین، کوئی لاکھوں خدا مانتا تھا تو کوئی بالکل بھی نہیں۔لوگ اپنا خدا اپنے ہاتھوں سے بناتے اور پھر اس کے سامنے جھک جاتے۔ درباروں، مندروں اور آستانوں پر چڑھاوے دیے جاتے جس سے ان کو ہر گناہ کرنے کی آزادی مل جاتی۔ لیکن ریاست مدینہ کے بانی نے سب سے پہلے عقیدہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا ۔ کیونکہ عقیدہ ہی وہ پہلا پتھر ہے جو درست ہو جائے تو زندگی کا دھارا بدل جاتا ہے۔ ایک شخص نہ کسی خدا کو مانتا ہو اور نہ کسی حساب کتاب کو ، تو پھر وہ اپنے پیٹ کا پُتر ہوتا ہے، اس کی ساری تگ و دو، ہر محنت کوشش، کامحور اپنا پیٹ، اپنے بچے، اور اپنا گھر ہوتا ہے۔نہ اسے حلال و حرام کی تمیز ہوگی اور نہ صحیح اور غلط کی۔ لیکن اگر اس کا عقیدہ بدل دیا جائے، تو صرف عقیدے کے بدلنے سے اس کی زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے گی کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سوچے گا کہ آیا یہ درست ہے یا غلط۔ حرام ہے یا حلال۔نہ اس کی نگرانی کی ضرورت ہوگی اور نہ ڈنڈے کی۔ لہٰذا آج بھی اگر کوئی ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہے تو اسے ریاست کے باسیوں کے عقائد اور نظریات کو درست کرنے کی فکر کرنی ہوگی، اور لوگوں کو ایک اللہ کا بندہ اور آخرت میں حساب کتاب اور جوابدہ ہونے کا احساس دلانا ہوگا۔

          2۔عبادات

آپ حضرات میں سے جس جس نے وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری دیکھی ہے تو انہیں یاد ہوگا کہ اس تقریب کے آغاز میں جو تلاوت ہوئی تھی اس میں سورہ حج کی آیت نمبر 41 پڑھی گئی تھی۔

الذین ان مکنٰھم فی الارض اقاموا الصلوة واٰتوا الزکوة وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر۔ وللہ عاقبة الامور (حج)

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ اگر ہم انہیں حکمرانی عطاءکریں تو یہ پوری پابندی سے نماز قائم کریں، زکوة دیں اور نیکیوں کا حکم کریں اور برائیوں سے منع کریں۔ اس ایک آیت کریمہ میں حکمرانی کرنے کا پورا طریقہ بتا دیا گیا ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں سب سے پہلا کام یہی کیا گیا۔ ریاست کا آغاز ہی مسجد نبوی کی تعمیر سے ہوا۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست مدینہ کی پہلی ترجیح مساجد کی تعمیر تھی، نہ کہ مساجد ڈھانا۔ پھر صرف تعمیر پر اکتفاءنہیں کیا گیا بلکہ مسجد کو اس کا حقیقی مقام بھی دیا گیا۔ امور مملکت کے اہم فیصلے مسجد میں ہوا کرتے تھے، ریاست مدینہ کی مقننہ مسجد میں ہی تھی۔ ریاست مدینہ کا جی ایچ کیو بھی مسجد تھا، ریاست مدینہ کی سپریم کورٹ بھی مسجد میں ہی تھی۔ الغرض ریاست مدینہ کے تمام امور مسجد میں طے ہوتے تھے، ریاست مدینہ کے لشکر فوجی ہوں یا سفارتی سب مسجد سے روانہ ہوتے تھے۔اور خاص طور پر خارجہ امور اور باقی ممالک کے سفارتی وفود سے مذاکرات اور ملاقاتیں مسجد میں ہوتی تھیں۔ریاست مدینہ نے اپنی نیشنل یونیورسٹی کا درجہ بھی مسجد کو ہی دیا ہوا تھا۔

سورہ حج کی آیت کریمہ کی روشنی میں ریاست مدینہ میں نظام صلوة اور نظام زکوة اس نہج پر قائم کیا ہوا تھا کہ کسی کو اس بات کی جرات و ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ نماز یا زکوة چھوڑ سکے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی اس بات کی ہمت نہیں کرسکتا تھا کہ وہ نماز اپنے گھر میں پڑھے تمام لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ جو بیمار ہوتا تھا اسے بھی دو آدمیوں کے سہارے لاکر مسجد کی صف میں بٹھا دیا جاتا تھا۔ ہم تو یہ دیکھتے تھے جو کھلم کھلا منافق ہوتا تھا اس کی کبھی کبھی(نوٹ کریں کبھی کبھی) جماعت کی نماز چھوٹ جاتی تھی ورنہ کسی عام منافق کو بھی جماعت چھوڑنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ دوسری طرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے ایک قبیلے کے بارے پتا چلا کہ انہوں نے زکوة دینے سے انکار کردیا ہے تو اس کے خلاف لشکر کشی کی تیاری شروع ہوچکی تھی۔ جبکہ صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے دور میں ریاست مدینہ نے مانعین زکوة کے بارے جو پالیسی اختیار کی وہ سب کے سامنے ہے۔

          3۔رسومات

قرآن حکیم کی سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے ریاست مدینہ کے بانی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وصف بیان کیا ہے:

ویضع عنھم اصرہم والاغلال اللتی کانت علیہم (اعراف157)

اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

عرب کے اس معاشرے میں جو جاہلیت کے بوجھوں تلے دبا ہوا تھا اور طرح طرح کی خود ساختہ بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، ریاست مدینہ نے ان تمام بوجھوں کو اتارا، اور تمام بندشوں کو کھول کر لوگوں کو آزاد کیا۔ طرح طرح کی من گھڑت رسومات اور رواج ، جن کے نہ سر تھے ، نہ پاوںریاست مدینہ نے سب کو ختم کرکے لوگوں کے بوجھ ہلکے کیے۔لوگوں کو بتایا کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ ان غلط رسومات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اصل اور صحیح رسومات کا اجرا بھی کیا۔ رسومات خوشی کے مواقع کی ہوں یا غمی کے مواقع کیں، ان کا صحیح طریقہ بتایا، اور بدعات و خرافات کا مکمل صفایا کیا۔ لہٰذا آج بھی اگر کوئی ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہے تو اسے لوگوں کو ان بوجھوں سے ہلکا اور ان بندشوں سے آزاد کرنا ہوگا جن میں لوگ جکڑے جا چکے ہیں اور نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔جہیز، مہندی، اور لڑکی کے گھر کھانے کی رسومات وہ ناسور ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اسی طرح فوتگی اور اس کے بعد کی رسومات کا معاملہ ہے، کہ مرنے والے کا تیجہ،قل اور خیرات ہوجائے تو وہ بخشا بخشایا ہو جاتا ہے۔ گویا شادی کی رسومات نے لوگوں کی دنیا اور فوتگی کی رسومات نے لوگوں کی آخرت خراب کرکے رکھ دی ہے۔

          4۔معاشرت

ریاست مدینہ نے اپنے معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کیا، اور جاہلیت کا وہ سارا گند صاف کیا جس نے عرب معاشرے کو لبیڑا ہوا تھا۔ ریاست مدینہ نے عدل و قسط پر مبنی معاشرہ کھڑا کیا۔ جس میں قانونی مساوات کو رائج کیا۔ قانون سب کے لیے ایک تھا، امیر غریب کا کوئی فرق نہیں تھا۔ ایک فاطمہ نامی عورت جب چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا تو اس کے قبیلے والے ہر قسم کی سفارشیں، رشوتیں دینے کے لیے تیار ہو گئے کہ کسی طرح اس عورت کو قانون کے ہاتھوں سے چھڑا دیا جائے۔ لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ عدالت کے طلب کرنے پر عدالت میں پیش ہوئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کے بیٹے کو سرعام کوڑے مارے اور یہ ثابت کیا کہ ریاست مدینہ میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ قانون کی بالادستی ہو اور قانون میں امیر غریب، چھوٹے بڑے طبقے کا فرق مٹا دیا جائے۔

ریاست مدینہ نے معاشرے کی سطح پر دوسرا بڑا کارنامہ فحاشی اور عریانی کو مٹانے کے حوالے سے کیا۔ اور لوگوں میں پردے کا نظام رائج کیا۔ محرم اور غیر محرم کا فرق لوگوں کے ذہن میں بٹھایا۔

ریاست مدینہ نے معاشرے کی سطح پر تیسرا بڑا کارنامہ خواتین کے حقوق بالخصوص شادی میں زبردستی، وراثت میں محروم رکھنا، یتیم کا مال ہڑپ کرنا۔ اور عورتوں کے حق ملکیت کو ثابت کرنے کے حوالے سے سرانجام دیا۔ اور لوگوں کو بتایا عورت مال نہیں انسان ہے، اور حق ملکیت بھی رکھتی ہے۔ کوئی کسی عورت سے زبردستی شادی نہیں کرسکتا۔کوئی عورت کے حق وراثت کو دبا نہیں سکتا۔ مردعورت دونوں کے حقوق برابر ہیں ، البتہ دائرہ کار علیحدہ علیحدہ ہے۔

          5۔ معیشت

ایک وقت وہ تھا جب لوگوں نے بھوک کی شدت کم کرنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھے ہوتے تھے، اور پھر چند سال بعد ایسا دور بھی آیا کہ ریاست مدینہ میں زکوة دینے والے تو تھے لیکن زکوة لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔یہ سب کچھ ریاست مدینہ کی ان شاندار پالیسیوں کے نتیجے میں ممکن ہوا جو اس ریاست نے اختیار کیں۔ ان میں سب اہم چیز سود پر مکمل پابندی تھی، جس کی وجہ سے غریب کو سر اٹھانے کا موقع ملا اور امیر کے منہ میں لگام ڈال دی گئی۔یہی وہ بنیادی پتھر تھا جسے اٹھاتے ساتھ ہی ریاست کی معیشت ترقی کرنا شروع ہوئی۔ ریاست مدینہ نے ارتکاز دولت پر بھی پابندی لگا دی۔ اور ایسی ایسی پالیسیاں جاری کیں کہ دولت چند ہاتھوں تک سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ دولت ہر وقت حرکت میں رہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے سود حرام اور زکوة فرض قرار دی گئی۔یعنی ناجائز طریقے سے کوئی دولت اکھٹی نہیں کرسکتا، اور جائز طریقے سے اکھٹی کی گئی دولت بھی ایک حد کے بعد ایک خاص مقدار زکوة کی صورت لٹا دی جائے گی۔

اس کے علاوہ ریاست مدینہ امیروں پر زکوة تو فرض کی لیکن غریبوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ آج ریاست پاکستان امیروں کو تو طرح طرح کی چھوٹ دیتی ہے، لیکن غریب سے ایک سوئی سے لےکر کھانے پینے کی بنیادی چیزوں یہاں تک کہ بچے کی تعلیم کے لیے خریدے گئے بال پن اور بستر مرگ پر لیٹے بیمار کی گولی تک ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی ہے۔کئی چیزیں تو ایسی ہیں کہ جتنی ان کی اصل قیمت ہے اس کے قریب قریب ہی اس پر ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی دل جمعی، خلوص،اور محنت سے کام نہیں کرتا بلکہ لوٹ مار،دھوکہ، فراڈ، اور غلط ذرائع سے دولت جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ریاست مدینہ شہریوں کو لوٹنے کے بجائے ان کی کفالت کرتی تھی۔ ریاست مدینہ شہریوں کی خوراک، صحت اور تعلیم کا خاص خیال رکھتی تھی۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ریاست مدینہ نے ریاست کے خلاف لڑنے والے سزائے موت کے مستحق دہشت گردوں کو صرف اس شرط پر رہا کردیا تھا کہ آپ ہمارے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ چنانچہ ایسے دہشت گردوں کو شرط پوری کرنے پر ریاست مدینہ نے بطور صلہ تختہ دار سے رہائی بھی دی۔ریاست مدینہ نے اپنی نیشنل یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالبعلموں سے کبھی فیس نہیں لی، بلکہ لوگوں کو ترغیب کے ان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تعاون کیا جائے۔صحت کے میدان میں ریاست مدینہ بچے جننے والی ماوں کواس درد و الم کی گھڑی میں لوٹتی نہیں بلکہ اس نے پیدا ہونے والے بچوں کے وظائف جاری کیے۔

          6۔سیاست

ریاست مدینہ کی سیاست کے دو بنیادی نکتے تھے۔ ایک یہ کہ مقتدر اعلیٰ اورحاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے۔ دوم یہ کہ دعوت حق کا فروغ کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ریاست مدینہ کی ساری سیاست اسی نکتے کے گرد گھومتی تھی۔ کوئی لشکر روانہ کرنا ہو یا مذاکرات، خارجہ پالیسی ہو یا عسکری پالیسی انہیں دو نکتوں کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی تھی۔ چنانچہ ایک وقت وہ تھا کہ ریاست مدینہ کے بانی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار میں پناہ لینا پڑی، اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، لیکن چند سال بعد وہ وقت آیا کہ آپ نے اس وقت کی سپر پاور طاقتوں روم و ایران کے بادشاہوں کو اسلام میں داخل ہونے کے خطوط لکھے اور دعوت حق کے فروغ کو عرب سے نکل کر عجم میں پھیلانا شروع کردیا۔

یہ تھی وہ ریاست مدینہ جس کے نام کو استعمال کرکے الیکشن کمپئین بھی چلی اور اب اسی نام پر حکومت بھی چل رہی ہے۔ ہم عمران خان کے خلوص میں شک تو نہیں کرتے کہ دل چیر کر دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن امید اور دعا ضرور کرتے ہیں کہ انہوں نے اگر سچا ارادہ کیا ہے تو اللہ انہیں بھی اور ہم سب کو ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کی ریاست کو ڈھالنے کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین ثم آمین

ماں کا دود زہر ہے۔ نکتہ گائیڈنس Nukta

Posted: October 5, 2018 by Free Urdu Books Download in ا۔۔۔۔ نکتہ


سورہ یٰس کا ایسا وظیفہ جو آپ کو اتنی دولت دے جو کسی کافر کو نہ ملی ہو اور کبھی ختم نہ ہو۔ بل گٹس بھی حسرت سے آپ کو دیکھتا ہی رہ جائے گا۔

Sura Yaseen Men Chupa Khazana Quran ka Asal Wazifa Bill Gates Money


ٹرینرز کا دور اور تضاد بیانیاں

(سیدعبدالوہاب شیرازی)

موجودہ دور کو ٹرینرز کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف خوبیوں کو پیدا کرنے اور خامیوں کو دور کرنے کی پریکٹس، ٹریننگ اور تربیت لینا ضروری ہوگیا ہے۔

چنانچہ آج سے چند سال پہلے تک پاکستان کے تعلیمی اداروں میں صرف کتابیں ہی پڑھائی جاتی تھیں، لیکن اب تعلیمی اداروں نے نصاب تعلیم سے ہٹ کر طلباء کی تربیت کا بھی اہتمام شروع کردیا ہے۔ یہ نہایت ہی خوش آئند عمل ہے۔ کیونکہ کتاب کا لکھے اور عملی تجربے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔آج یونیورسٹیز ہوں یا ملٹی نیشنل کمپنیاں۔ میڈیسن کمپنیاں ہوں یا مختلف سروسز فراہم کرنے والے ادارے ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تربیت کریں۔

c25c1-nukta2bcolum2b3

جیسے جیسے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے ساتھ ساتھ ٹرینرز کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے، جو اپنی صلاحیتوں، تعلیمی قابلیتوں اور عملی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں لیکچرز اور ایکسرسائز کے ذریعے ٹریننگ فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض مفت ہیں، بعض آدھے مفت آدھے قیمتا، بعض سستے اور بعض بہت ہی مہنگے ہیں۔

عام طور پر مفت وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں مذہبی یا دینی ٹریننگ کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ آدھے مفت آدھے قیمتا وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں کچھ دینی اور کچھ دیگر ٖٖٖضروری ٹریننگ شامل ہوتی ہیں۔ اور صرف قیمتا وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں مذہبی یا دینی تربیت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ اپنی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق کم یا زیادہ معاوضہ لیتے ہیں۔

چنانچہ مکمل مذہبی یا دینی تربیت فراہم کرنے والے ظاہر کے اعتبار سے مکمل مذہبی حلیہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم والے آدھے تیتر آدھے بٹیر اور تیسری قسم والے مکمل دین بیزار ہوتے ہیں۔ابھی جو بات میں کرنے جارہا ہوں اس کا تعلق تیسری قسم سے نہیں اس لئے اسے سردست یہاں سے نکال لیں۔

پہلی اور دوسری قسم والوں کو چاہیے وہ اپنے اندر یہ خوبی پیدا کریں کہ ان کی کوئی گفتگو ایسی نہ ہو جس میں تضاد بیانی کا شبہ ہوجائے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف لیکچرز میں بعض ایسی باتیں کرجاتے ہیں جو ان کے کسی دوسرے لیکچر سے ٹکرا رہی ہوتی ہیں۔

میرے خیال میں ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ دوسروں کے لئے جیسا بھی ہو اپنے آپ کو ہمیشہ جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹرینرز ایک طرف تو پرسنیلٹی پر لیکچر دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کے ظاہر کا اثر اس پر خود بھی پڑتا ہے اور دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ ٹیچر ہیں اور آپ کا ظاہری حلیہ ٹیچروں والا نہیں تو آپ اپنے شاگردوں کو قائل نہیں کرسکیں گے، انہیں کلاس دے کر مطمئن نہیں کرسکیں گے۔ دیکھنے والے کی نظر آپ کے ظاہر پر پہلے پڑتی ہے جبکہ آپ کی آواز اس کے کانوں تک بعد میں پہنچتی ہے، اس لئے ظاہر کی درستگی انتہائی ضروری ہے۔ آپ کا لباس، آپ کا چال چلن، آپ کی گفتگو، آپ کی جوتی، آپ کے بال، آپ کا اٹھنا بیٹھنا ، کپڑوں اور جوتوں کا رنگ سب ایسے ایسے ٹھیک ہونا چاہیے۔

لیکن یہی ٹرینرز جب روحانیت، مذہبی یا دینی گوشوں پر بات کرنا شروع کرتے ہیں تو بیک جنبش  ظاہر کی نفی کردیتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں پاکیزگی تو بس دل کی ہونی چاہیے، انسان کی نیت صاف ہونی چاہیے، ظاہر میں کچھ نہیں رکھا، اصل تو بس باطن ہی ہے۔ ظاہر کے جبے ، قبے، اور دستار کی کوئی ویلیو نہیں ہے، اللہ دلوں کے حال جانتا ہے، بس بندے کا دل صاف ہو، وغیرہ وغیرہ۔

اب ایک ہی ٹرینر سے دو الگ الگ لیکچرز اور بعض اوقات ایک ہی لیکچر کے آغاز کی گفتگو اور  اختتام کی گفتگو میں یہ تضاد بیان سن کر آدمی کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ یہ تضاد بیانی دراصل اپنے آپ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے ہوتی ہے، انسان کے اندر جوکمزوری ہوتی ہے وہ پھر اسے اسی طرح جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا سامعین پر نہایت ہی برا اثر پرٹا ہے۔

2۔ ایک دوسری تضاد بیانی یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ کبھی کبھی کوئی ٹرینر جو کام دن رات خود کررہا ہوتا ہے اسی طرح کے اور کام  پرکسی دوسرے پر سخت تنقید کررہا ہوتا ہے۔ مثلا ایک ٹرینر کو دیکھا وہ فرمارہے تھے میرے پاس تبلیغی جماعت والے اکثرآتے رہتے ہیں میں انہیں کہتا ہوں بھائی پہلے اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو ٹھیک کرلو، اپنے محلے والوں کو ٹھیک کرلو پھر دوسرے شہر میں جاو، جب تک اپنا گھر ٹھیک نہیں ہوتا اپنا محلہ ٹھیک نہیں ہوتا دوسرے شہر میں جانا صحیح نہیں ہے۔ اب دیکھا جائے تو یہ حرکت وہ ٹرینر خود بھی کررہا ہوتا ہے، یعنی خود شہرشہر، قریہ قریہ، گھومتا ہے اور اسی اسی ہزار کا ایک لیکچر دیتا ہے، لیکن عمل کی دعوت دینے کے لئے کوئی اس کے پاس آئے تو ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تمہارے گھر والے ٹھیک ہوگئے کہ تم دوسرے شہر آئے ہو؟۔ یہ سوال تو اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ جوجو لیکچرآپ دوسروں کو دینے پورے ملک میں گھومتے ہیں کیا وہ ساری باتیں آپ کے گھر، آپ کے محلے کے ہرہرفرد میں پیدا ہوچکی ہیں کہ آپ کو دوسرے شہر نکلنے کی فرصت ملی۔

قرآن نے اور ہمارے دین نے ایسے شخص کو ملامت ضرور کیا ہے جو خود عمل نہ کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے لیکن اس بات سے منع نہیں کیا کہ جو بات ابھی آپ کے عمل میں نہیں اسے دوسروں کو نہ بتاو۔ میرے خیال میں اس طرح کی بات کرنے میں ان بچاروں کا قصور بھی نہیں کیونکہ وہ یہ بات شاید لاعلمی میں کہہ رہے ہیں، کیونکہ تبلیغی جماعت دراصل سیکھنے پر ہی زور دیتی ہے، وہ جب کسی کو نکلنے کا کہتے ہیں تو ان کے الفاظ یہ ہوتے ہیں: اللہ کے راستے میں نکل کراس کام کوسیکھیں۔ اب جو سیکھنے نکلتے ہیں انہیں ساتھ ساتھ عملی طور پر پریکٹس کروائی جاتی ہے، کہ چلو فلاں کو دعوت دے کر سیکھو،چار مہینے تک پریکٹس کرو اور پھر اپنے علاقے میں کام کرو۔

لہٰذا ہر لیکچر دینے والے کو کسی بھی ایسی بات سے بچنا چاہیے جو اس کی اپنی ہی بات کو کاٹ رہی ہو۔کیونکہ کسی کو بھی اوپر چڑھنے میں دیر لگتی ہے لیکن نیچے گرنے میں سیکنڈ لگتے ہیں، سامعین سارا  اعتماد اٹھ جاتا ہے، بیان میں وہ تاثیر نہیں رہتی جو کسی کے اندر چینج لاسکے۔


حقیقی برکتِ قرآن اور احترامِ قرآن کیا ہے۔؟

(سید عبدالوہاب شیرازی)
قرآن حکیم اللہ رب العزت کا وہ کلام ہے جس میں تمام انسانوں کے لئے ہدایت رکھ دی گئی ہے۔بحیثیت مسلمان قرآن حکیم کا احترام بھی ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔ اور یقینا ہر مسلمان قرآن حکیم کا احترام کرتا بھی ہے، چنانچہ قرآن حکیم کی طرف لوگ پشت نہیں پھیرتے، اگر کوئی کمرے یا مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت کررہا ہو اور کسی دوسرے شخص نے وہاں سے جانا ہوتو وہ اس جگہ تک الٹے قدموں سے چلتا ہے جہاں تک قرآن حکیم کا نسخہ سامنے نظر آرہا ہو۔ اسی طرح مسلمان قرآن حکیم کے احترام میں قرآن سے بلند نہیں ہوتے۔ علماء نے یہ بات بھی احترام قرآن میں لکھی ہے کہ دنیا کی کسی بھی کتاب کو قرآن کے اوپر نہیں رکھنا چاہیے حتی کہ احادیث کی کتب بھی قرآن کے نیچے ہی رکھنی چاہیں۔عوام الناس میں قرآن حکیم کے احترام کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی قسمیں اٹھوائی جاتی ہیں اور یہ یقین کرلیا جاتا ہے کہ قسم اٹھانے والے نے لازما قرآن کے احترام میں سچی بات کی ہوگی۔ عدالتوں اور تھانوں میں بھی قرآن حکیم کا ایک مصرف یہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کے سامنے قرآن رکھ کر گواہیاں اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بغیر وضو کے قرآن کو نہ چھونے کا تعلق بھی احترام قرآن ہی کا حصہ ہے۔اس احترام کے ساتھ ساتھ لوگوں میں قرآن سے برکت کے حصول کے تصورات بھی پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ نئی دکان کا افتتاح کسی مدرسے کے بچوں سے قرآن پڑھا کر کیا جاتا ہے۔ نئے مکان میں شفٹ ہونے سے پہلے بھی ختم قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بیٹی کی رخصتی کے وقت سرپر قرآن پکڑکر گھر سے رخصت کرنا اور جہیز میں قرآن کا نسخہ دینے کا رواج بھی عام ہے۔ہر مسلمان چاہے اسے قرآن پڑھنا آتا ہے یا نہیں، اگر پڑھنا آتا ہے تو تلاوت کرتا ہے یا نہیں، اگر تلاوت کرتا ہے تو مفہوم سمجھتا ہے یا نہیں ہر صورت میں ہر مسلمان کے گھر قرآن پاک کا ایک نسخہ غلاف میں لپٹا الماری میں ضرور رکھا ہوتا ہے، جو بوقت ضرورت حصولِ برکت کھول کر پڑھا یا چوما جاتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاں یہ رواج بھی عام ہے کہ وہ ہر روز صبح الماری سے قرآن حکیم کا نسخہ نکال کر غلاف کھولتے ہیں اور چوم کر پیشانی سے لگا کر پھر لپیٹ کر رکھ لیتے ہیں۔ بعض روزانہ یہی عمل اپنے کاروبار ، دکان پر جانے سے پہلے دہراتے ہیں۔

یہ تو ساری وہ باتیں تھیں جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ قرآن حکیم کا اصل اور حقیقی احترام کیا ہے؟ قرآن حکیم کی اصل اور حقیقی برکت کیا ہے؟ اس حوالے سے علامہ اقبال مرحوم کے نزدیک احترام قرآن کی حقیقت ظاہری رسومات سے کہیں ماورا ہے۔چنانچہ فقیر سید وحید الدین احترام قرآن کے زیر عنوان علامہ اقبال کا یہ واقعہ لکھتے ہیں:
“علامہ کی چھوٹی ہمشیرہ کی شاد ی وزیر آباد کے ایک گھرانے میں ہوئی تھی۔ پھر غالباً اس لئے کہ ان کے یہاں شاد ی کے بعد ایک دو سال میں کوئی اولاد نہیں ہوئی ، ان کی خو ش دامن نے سسرال میں انھیں رہنے نہ دیا ۔ تلخی اتنی بڑھی اور بات یہاں تک پہنچی کہ وہ مجبوراً میکے چلی آئیں اور کئی سال وہیں رہیں ۔ ان کی ساس نے بیٹے کی دوسر ی شاد ی کر دی۔ پھر نہ معلوم کیا واقعات پیش آئے کہ وہ اپنی اس دوسری بہو پر بھی سوکن لے آئیں۔ علامہ اقبال کے بہنوئی ایک سعادتمند بیٹے کی طرح اپنی والدہ کی زندگی بھر خدمت اور اطاعت کرتے رہے۔ ماں نے جو کہا ، اس کی تعمیل کی لیکن ان کی وفات کے بعد انھوں نے اپنی پہلی بیو ی کو گھر لے جانا چاہا اور کئی مہینے تک کوشش جاری رکھی۔ وہ بار بار علامہ کے والد کے پاس طرفین کے رشتے داروں کو مصالحت کے لئے بھیجتے رہے۔ پہلے تو ادھر سے انکار ہو تا رہا ۔ پھر بہت کچھ سو چ بچار کے بعد علامہ کے والد اور والدہ صاحبہ دونوں رضامند ہوگئے ۔ سا س اور سسر کی رضامند ی کا سہارا پاکر علامہ کے بہنوئی کچھ عزیزوں کو ساتھ لے کر اپنی سسرال آگئے ۔ اتفاق کی بات کہ ان دنوں علامہ بھی سیالکوٹ گئے ہوئے تھے ۔ انھیں جب اس کا علم ہوا کہ ان کے بہنوئی مصالحت کی غرض سے آئے ہوئے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی حد ہی نہ رہی۔ والد صاحب نے بہت کچھ سمجھایا مگر علامہ یہی کہتے رہے کہ مصالحت نہیں ہو سکتی ۔ ہر گز نہیں ہو سکتی ۔ آنے والوں کو واپس کر دیا جائے ۔ان کے والد نے جب دیکھا کہ اقبال کسی طرح رضامند ہی نہیں ہو تے تو انھوں نے خاص انداز میں کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں والصُّلحُ خَیر (صلح میں خیر ہے)فرمایا ہے ۔ اتنا سننا تھا کہ علامہ اقبال خاموش ہو گئے ۔ ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ، جیسے کسی نے سلگتی ہوئی آگ پر برف کی سل رکھ دی ہو ۔ ان کے والد نے قدرے توقف کے بعد علامہ سے پوچھا کہ پھر کیا فیصلہ کیا جائے ؟ علامہ نے جواب دیا ، وہی جو قرآن کہتا ہے ۔ چنانچہ مصالحت ہو گئی اور چند دن کے بعد ان کے بہنوئی اپنی بیو ی یعنی علامہ کی چھوٹی بہن کو رخصت کرا کے اپنے گھر لے گئے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ صلح خیر ہی ثابت ہوئی۔(روزگار فقیر)
اس واقعے سے پتا چلتا ہےکہ علامہ اقبال مرحوم کے نزدیک قرآن حکیم کا حقیقی احترام یہ ہے کہ اس کے احکامات پر بلاچوں چرا عمل کرلیا جائے۔ادھر قرآن کا حکم سامنے آئے اور ادھر مسلمان اپنے جذبات کو دبا کر اپنی رائے کو قرآن کی رائے سے بدل دے۔
علامہ کے ہم عصر ایم اسلم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: 
” میں نے متعدد بار قرآن مجید کو ان کے مطالعے کے میز پر دیگر کتابوں کے ساتھ پڑا دیکھا۔ ایک مرتبہ میں نے ادب کے ساتھ انھیں اس طر ف متوجہ کیا تو فرمانے لگے : یہ کسی قیمتی اور خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اور عطر میں بسا کر اونچی جگہ پر رکھنے والی کتاب نہیں بلکہ یہ تو انسان کے ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے ۔ چونکہ مجھے اکثر اس کے حوالے کی ضرورت پیش آتی ہے اس لیے یہاں رکھی ہے۔(افکار اقبال)
یعنی قرآن تو ایسی کتاب ہے جو ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے، غلافوں میں لپیٹ کر صرف برکت کے لئے رکھنے کی کتاب نہیں۔لیکن آج صورتحال اس کے برعکس ہے، ہم نے قرآن کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا ہے، جب اپنا دنیاوی مفاد ہوتا ہے تو ہم اسے اٹھاتے ہیں، گرد صاف کرتے ہیں اور چومتے ہیں، باقی ہمارے کاروبار زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
علامہ اقبال ارمغان حجاز فارسی میں کہتے ہیں:
برہمن ازبتاں طاق خو د آراست
تو قرآں از سر طاقے نہادی 
برہمن نے اپنے طاق کو بتوں سے سجا یا ہے اور اے مسلمان تو نے قرآن کو طاق پر رکھ چھوڑا ہے ۔
ایک اور مقام پر ہمار ے معاشر ے کی “رسوم قرآنی “پر اپنے سوز دروں کا اظہار مسلمان کو مخاطب کر تے ہوئے یوں کر تے ہیں :
بہ بند صو فی و ملا اسیر ی
حیات از حکمت قرآں نگیر ی
بآ یا تش تراکار ی جزایں نیست
کہ از یسینِ اُو آساں بمیر ی 
اے مسلمان! تو صوفی و ملا کے فریب کم نگہی اور کج ادائی کا اسیر ہے اور حکمت قرآں سے پیغام حیات اور اسلو ب زندگی حاصل نہیں کر رہا ۔ قرآن کی آیات سے تیرا تعلق بس اتنارہ گیا ہے کہ تیرے ہاں کسی کے وقت نزع سور ہ یسین کی تلاوت بس اس لیے کی جاتی ہے کہ مرنے والے کا دم آسانی سے نکل جائے ۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے:
اے اہل قرآن اس قرآن کو پس پشت نہ ڈالو، اور اس کی تلاوت کرو جیسا اس کا حق ہے صبح اور شام، اور اس کو پھیلاو، اور اسے خوبصورت آوازوں سے پرھو، اور اس میں تدبر کرو تاکہ تم فلاح پاو۔(بیہقی)
لاتتوسدوا یعنی پس پشت نہ ڈالو،سہارا نہ بناؤ۔ہم نے اپنے مفادات کے لئے سہارا بنادیا ہے، دکان،کاروبار کی برکت، قسمیں اٹھانے اور مرتے ہوئے شخص کے پاس سورۃ یسین پڑھ لیتے ہیں، بیٹی کو ٹی وی کے ساتھ جہیز میں قرآن بھی دے دیتے ہیں۔ ہمارے حال پر حضور ﷺ کا یہ فرمان صادق آتا ہے۔
ان اﷲ یرفع بہذاالکتاب اقواما ویضع بہ آخرین(مسلم)
یعنی دنیا میں بحیثیت قوم ہماری تقدیر اس کتاب سے جڑی ہوئی ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
وقدترکت فیکم مالن تضلوا بعدہٗ ان اعتصمتم بہ کتاب اﷲ (مسلم)
میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جارہا ہوں کہ جب تک اس کے ساتھ چمٹے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ اﷲ کی کتاب قرآن ہے۔
چنانچہ قرآن کا حقیقی احترام یہی ہے کہ قرآنی احکامات ہماری زندگی، ہمارے گھر، ہماری دکان ، ہمارے معاشرے او ر ملک میں نظر آنے چاہیے اور قرآن کی حقیقی برکت بھی یہی ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے اس اعلان خداوندی کے مستحق ٹھہریں جو سورہ اعراف آیت96 میں فرمایا: 
اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے


قرآن کے حقوق اور ہمارا طرز عمل

سید عبدالوہاب شیرازی

quran-k-huqooq-by-syed-abdulwahab-sherazi-4

Read Online

Download


(سید عبدالوہاب شیرازی)

جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نام رکھ کر عقیقہ کردیا جائے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بیماری یہ بھی پائی جاتی ہے کہ لوگ ایسا کوئی نام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو پہلے سے کسی اور نے رکھا ہوا ہو۔ چنانچہ خاص طور پر عورتیں کئی کئی مہینے بچے کو بغیر نام کے پال رہی ہوتی ہیں اور اس تلاش میں رہتی ہیں کہ ہمیں کوئی نیا، انوکھا نام مل جائے جو کسی اور نے نہ رکھا ہوا ہو۔ بعض لوگ تو زیادہ اسلامی بننے کے چکر میں قرآنی نام رکھنے کے لئے خود ہی قرآن اٹھا کر پڑھنا شروع کرتے ہیں اور پھر پڑھتے پڑھتے جو لفظ اچھا لگے تو اسے بچے کا نام رکھ لیتے ہیں، چنانچہ ایسا ہی ایک صاحب نے کیا جب بچہ کافی بڑا ہوگیا تو بعد میں پتہ چلا کہ اس بچے کا جو نام رکھا گیا ہے وہ تو جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے۔اسی طرح بعض لوگ آنکھیں بند کرکے قرآنی صفحے پر انگلی رکھتے ہیں، انگلی کے نیچے جو لفظ آجائے وہی نام رکھ لیتے ہیں۔

البتہ اب کچھ شعور اور تعلیم عام ہوئی ہے تو لوگ نام کا معنی بھی دیکھتے اور پوچھتے تو ہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ نام ایسا ہونا چاہیے جو ہم نے کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ سنا نہ دیکھا ہو۔ چنانچہ اگر مجھ سے کوئی نام پوچھے تو میں جو بھی نام بتاتا ہوں لوگ کہتے ہیں نہیں نہیں یہ تو فلاں کا ہے، یہ تو ہمارے پڑوسی کا ہے، یہ تو دبئی میں ہمارے رشتہ دار رہتے ہیں ان کے بچے کا ہے، کوئی ایسا نام بتائیں جو کسی کا نہ ہو تو پھر میرا جواب ہوتا ہے وہ نام ابلیس ہی ہے جو کسی انسان کا نہیں ہے۔

ناموں کے سلسلے میں شریعت کی طرف سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہےوہ یہ ہے کہ ایک تو ساتویں دن تک نام رکھ دیا جائے۔ دوسرا انبیاء اور صحابہ کرام کے ناموں میں سے کوئی سا نام رکھ دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ اور عبدالرحمن ناموں کی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ یہ دو نام ایسے ہیں جو مسلمانوں خصوصا صحابہ وتابعین کے بچوں میں بہت عام ہوتے تھے۔اسی طرح لوگوں میں ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ بچے کا نام محمد نہیں رکھ سکتے۔ حالانکہ ایک حدیث میں اس نام کی  فضیلت بھی بیان ہوئی ہے جسے لوگوں نے اس طرح حاصل کرنا شروع کردیا ہے کہ ہر نام سے پہلے محمد لکھ دیا جاتا ہے، یہ بھی اچھی بات ہے لیکن فضیلت صرف اسی بچے کے لئے ہے جس کا نام صرف محمد ہو۔ اسی طرح بعض نام لوگوں میں غلط العام بھی ہوگئے ہیں، مثلا شُرَحْبِیْل کئی صحابہ،تابعین اور محدثین کا نام ہے۔لیکن آج کل یہ نام غلط ہو کر شرجیل مشہور ہوگیا ہے۔

اچھا نام ضرور رکھا جائے لیکن اچھے کے چکر میں نئے نام کے لئے اتنی تلاش نہ کی جائے کہ کئی کئی مہینے گزر جائیں۔ اچھا نام اگرچہ آپ کے محلے یا برادری میں کئی بچوں کا ہو آپ بھی بلا جھجک رکھ سکتے ہیں، یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایسے پسندیدہ نام بلا جھجک رکھ دیا کرتے تھے جو پہلے  سے اپنے محلے کے کئی کئی بچوں کا ہوتا تھا۔چنانچہ آج یہ حقیقت بھی جانیے کہ جنگ بدر میں صرف 313 صحابہ کرام نے شرکت کی تھی اور ان تین سو تیرہ میں کئی اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کا نام ایک ہی تھا۔ چنانچہ یہ نام پڑھتے ہوئے حیران ہوں گے کے اس وقت کے معاشرے میں کیسے لوگ ایک ہی نام رکھا کرتے تھے۔

ایک نام والے بدری صحابہ کرام:

2 ایاس، 2 جابر، 2 حاطب، 2 حمزہ، 2 خالد، 2 خباب، 2 ربیع، 2 سالم، 2 سُراقہ، 2 سنان، 2 سواد، 2 ضحاک، 2 عباد، 2 عبدالرحمن، 2 عثمان،2 عمارہ، 2 کعب، 2 محرز، 2 معبد، 2 معن، 2 معوذ، 2 وہب

3 اوس، 3 تمیم، 3ثعلبہ، 3 حارثہ، 3 زیاد، 3 سلمہ، 3 طفیل، 3 عتبہ، 3 قیس، 3 معتب، 3 منذر

4 خلاد،4 رفاع، 4 سلیم، 4 عاصم، 4 عقبہ

5 ثابت، 5 رافع،5 عبید،5 عمیر،5 معاذ

6 زید،6 سہل،6 مسعود،6 یزید

7 نعمان

8 عامر،8 مالک

11 عمرو

12 حارث

13 سعد

26 عبداللہ

32 نام ایسے ہیں جو ابو سے شروع ہوتے ہیں۔

یہ بات دبارہ ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ تعدادصرف تین سو تیرا میں سے ہے ہزاروں میں سے نہیں۔ یعنی تین سو تیرا میں سے 231 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کے ایک جیسے نام تھے اور 32 صحابہ کرام ایسے تھے جن کے نام میں ابو آتا ہے، اور صرف 48 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کا الگ سے نام تھا۔ یہ 48 نام بھی بالکل مختلف نہیں ہیں صرف ایک آدھ لفظ کا ہی فرق ہے مثلاجابر،جبر،جبار،جبیر وغیرہ

صحابہ اور تابعین کے دور میں تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ جو نئے آنے والے بچے کا نام ہے وہی اس کے باپ کا نام ہے اور وہی اس کے دادا کا نام ہے۔ مثلا محمد بن محمد بن محمدبن محمد۔

موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت کے بزرگ مفتی زین العابدین رحمہ اللہ نے اپنے چاروں بیٹوں کا نام یوسف رکھا ہوا تھا جنہیں یوسف اول دوم سوم چہارم سے فرق کیا جاتا تھا۔

12-27-2016-bachon-k-name


انسان جب دنیا میں آتا ہے سب پہلے اسے صرف اتنا علم ہوتا ہے کہ ماں کی چھاتی سے دودھ کیسے پینا ہے، دنیا میں آکر اسے کوئی نہیں سکھاتا اور نہ ہی سکھانا ممکن ہوتا ہے بلکہ پیدائش کے فورا بعد اسی دن وہ ایسے دودھ پینا شروع کردیتا ہے جیسے اسے اچھا خاصا تجربہ ہے۔ یہ اللہ کی ذات ہے جو اسے یہ علم وتجربہ دے کر اس دنیا میں بھیجتی ہے،اللہ اکبر۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان عمر کے جس حصے میں ہوتا ہے اپنے آپ اور اپنی سوچ وفکر اور علم کو کامل ومکمل سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے دوسروں سے جھگڑے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ میری معلومات ناقص ہیں تو کبھی بھی جھگڑا پیدا ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحدید کی آیت نمبر بیس میں ایک انسان کی زندگی میں اس کی فکر،سوچ،علم اور ترجیحات کے مراحل کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اِعلموا انما الحیوة الدنیا لعب ولھو وزینة وتفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاولاد۔کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یہیج فترہ مصفرا ثم یکون حطاما۔ ترجمہ: خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات نے کاشت کاروں کو خوش کردیا، پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی، پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔
عام طور پر اس آیت کا لفظی ترجمہ کرکے ہم آگے گزر جاتے ہیں اور اس بات میں غور وحوض نہیں کرتے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پانچ مختلف الفاظ میں انسانی زندگی کے پانچ ادوار بیان کیے ہیں، جنہیں ہم ایک انسان کا علمی یا ترجیحاتی ارتقاءبھی کہہ سکتے ہیں۔ لعب پانچ سال سے دس گیارہ سال کی عمر کا دور ہے۔ پھر”لہو“اٹھارہ انیس سال تک کی عمر کا دور ہے۔ پھر”زینہ“اٹھائیس تیس سال تک کا دور ہے۔ پھر”تفاخر“ اڑتیس چالیس سال تک کا دور ہے اور پھر اس کے بعد تکاثر فی الاموال والاولاد کا دور ہے۔
ذرا غور کیجیے! فرمایا: جان لو دنیا کی زندگی ”لعب“ ۔”لھو“۔ ”زینت“۔ ”تفاخر“۔ اور ”مال میں کثرت کی خواہش“ کا نام ہے۔ اب آپ ہرہر لفظ کو کسی ڈکشنری کی مدد سے دیکھیں کہ ان کے معانی کیا ہیں۔
1۔مثلا پہلا لفظ ہے ”لعب“، المنجد میں اس کا معنی لکھا ہے۔ بچے کے منہ سے رال ٹپکنا، کھیلنا، ایسا فعل کرنا جس پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہو۔ چنانچہ بچوں کے اکثر افعال ایسے ہی ہوتے ہیں جن پر کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا، جیسے ریت کے گھر بنانا، کھلونا گاڑیاں چلانا، وغیرہ وغیرہ تمام کام بالکل فضول اور کھیل برائے کھیل ہوتے ہیں۔ جن میں کوئی جسمانی لذت بھی نہیں ہوتی، لیکن وہ بچہ انہیں فضول نہیں سمجھتااس کے علم اور فکرکے مطابق یہ بہت بڑے کام ہوتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص کسی بچے کی گاڑی توڑ دے تو وہ روتا ہے اور اس کو اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا دکھ تیس سال کے شخص کو ایک کروڑ کا نقصان ہونے سے ہوگا۔
2۔اس کے بعد پھر دوسری سٹیج آتی ہے (نودس سال کے بعد)جسے Teen ager stage کہاجاتا ہے۔ یہ نہایت خطرناک دور ہوتا ہے، یہاں انسان صرف کھیلتا ہی نہیں بلکہ اب اس کے کھیلوں میں لذت کا حصول بھی شامل ہوجاتا ہے، یہ آوارگیوں کا دور ہوتا ہے، اس عمر میں کھیل برائے کھیل نہیں بلکہ کھیل برائے لذت ہوتا ہے۔ اس کے لئے قرآن نے ”لھو“ کا لفظ استعمال کیاجس کا معنی المنجد میں کھیل۔بہلاوا۔شغل اور غافل کرنے کی چیز کیا گیاہے۔
3۔اس کے بعد انسان پر تیسرا دور آتا ہے، جسے قرآن نے زینت کے الفاظ سے بیان کیا ہے، اس عمرکے نوجوان خصوصا لڑکیوں کے ذہن پر جو چیز ہروقت سوار ہوتی ہے وہ فیشن ہے۔ میں خوبصور ت لگوں، خوبصورت پہنوں۔ بال، چہرہ،لباس،جوتی سمیت ہرچیز خوبصورت ہو۔ گویا ساری سوچ وفکر،احساسات اور نفسیات میں نمایاں چیز یہی زینت ہوتی ہے۔
4۔پھرچھبیس ستائیس سال کے بعد زندگی کا وہ دور آتا ہے جس میں انسان ”تفاخر“ کا شکار ہوجاتا ہے۔وہ فخریہ طور پر دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ فخر علم پر بھی ہوسکتا ہے اور مال پر بھی۔ خوبصورتی پر بھی ہوسکتا ہے اور عبادت پر بھی، اپنے کنبے قبیلے پر بھی ہوسکتا ہے اور اپنے #مسلک ومذہب پر بھی۔گویا اس دور میں آدمی ہر حال میں اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
5۔پھر پینتیس چالیس سال کی عمر سے انسانی ذہن پچھلی ساری چیزوں کو فضول سمجھتے ہوئے بس ایک ہی دھن میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقے سے مال زیادہ سے زیادہ جمع ہوجائے، جسے قرآن نے ”تکاثر فی الاموال والاولاد“ سے تعبیر کیا ہے۔یعنی اس عمر میں آدمی سوچتا ہے #مونچھ کٹتی ہے تو کٹ جائے لیکن پیسہ آجائے۔ یاد رہے مذکورہ پانچوں ادوار کے ہر دور میں آدمی اسی دور کو سب سے اعلیٰ،حتمی اور کامل ومکمل سمجھتے ہوئے پاگلوں کی طرح اس کام میںلگا رہتا ہے، نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحت کا اثر قبول کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ڈراوا دھمکی اس کے آڑے آتی ہے۔
#علم اور ترجیحات کے اس #ارتقاء سے ہر #انسان کا گزر ہوتا ہے، علم ،عمر اور مشاہدہ جیسے جیسے بڑھتا ہے انسان کی سوچ میں تبدیلی آتی رہتی ہے، پہلے دو ادوار میں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ تیسرے اور چوتھے دور میں خاندان،پھربرادری اور پھر مسلک اور فرقے کے بارے سوچتا ہے۔ لیکن چالیس سال کی عمر میں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ عقل مکمل ہوجاتی ہے انسان اپنے سے باہر نکلتا ہے اور پوری قوم، ساری امت اور پھرتمام انسانیت کے بارے سوچنا شروع کردیتا ہے۔سوچ کا یہ تغیرجتناجلدی مکمل ہواتنا ہی بہتر ہے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی۔
آپ زندگی کے جس دور سے بھی گزر رہے ہیں آپ اس دور اور اس سے پہلے کے ادوار کو دیکھیں یہ حقیقت آپ کو صاف دکھائی دے گی۔ پھر آپ اپنے معاشرے کو دیکھیں، لوگوں کو دیکھیں، تنظیموں اور جماعتوں کو دیکھیں ان جماعتوں کی عمروں کو دیکھیں ان کے اندر بھی آپ کو یہی #حقیقت نظر آئے گی۔اگر ایک جماعت کسی وقت اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کررہی تھی تو اب تیس چالیس سال کے بعد مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری جماعت ابھی بھی وہی سوچ رکھتی ہے جو چوبیس پچیس سال کے نوجوان کی ہوتی ہے۔
Syed Abdulwahhab Sherazi
#نکتہ #nukta
12-26-2016-elmi-irteqa

ذمہ داری کا احساس یا احساس ذمہ داری ایک خاص ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت جس وقت کسی انسانی پر سوار ہوتی ہے تو وہ شخص اس کام کے بارے سخت بے چینی محسوس کرتا ہے، ہر وقت اسی کام کے بارے سوچتا رہتا ہے، اپنی توجہ کسی دوسری طرف کرنا محال ہوجاتا ہے، یہ کیفیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ کام مکمل نہ ہوجائے، جب کام ہوجاتا ہے تو تب انسان سکون کا سانس لیتا ہے۔چنانچہ جب یہ کیفیت طاری ہوتی ہے اس وقت انسانی ذہن چند باتیں مسلسل سوچ رہا ہوتا ہے۔ یہ کام کیسے ہو، یہ کام جلداز جلد ہو، یہ کام ضرور ہو، یہ کام سب کریں وغیرہ۔
شدید بے چینی کی اس کیفیت میں ہمارے ذہن پر صرف تین باتیں سوار رہتی ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ کسی کام میں تاخیر احسان ذمہ داری کے فقدان سے ہی ہوگی، کبھی کبھی اس کے کچھ دیگر عوام بھی ہوتے ہیں، مثلا: اگر کوئی شخص وہمی قسم کا ہے تو وہ ہروقت سوچتا ہی رہے گا، اسے کام ہونے کے بعد اطمینان نہیں ہوگا وہ پھر کرے گا، پھر اطمینا نہیں ہوگا تو پھر کرے گا اور اس طرح سارا وقت برباد کربیٹھے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص ریاکار یا شیخی باز ہے تو وہ بھی کام نہیں کرسکے گا کیونکہ وہ دکھلاوے کے لئے ہرکام اپنے ذمہ لے لے گا اور پھر کرنہیں سکے گا۔ اسی طرح بعض لوگ حد اعتدال سے زیادہ فرماں برداری کرتے ہیں وہ بھی کام کے بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں، یعنی جب انہیں کوئی کام سپرد کیا جاتا ہے تو فورا قبول کرلیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ آیا یہ کام میری طاقت کے بقدر ہے یا نہیں، یا کبھی کبھی ہرکام لیتے رہتے ہیں کبھی ناں نہیں کرتے اور اتنا زیادہ کام لے لیتے ہیں کہ پھر اسے کرنا محال ہوجاتا ہے۔
قیادت
انسان کی بہت سی ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت #اجتماعیت ہے، اس میں اللہ نے برکت رکھی ہے اور اس میں اس کی مدد بھی شامل حال رہتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے: ید اللہ علی الجماعة (ترمذی) جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے اجتماعیت سے الگ ہوکر زندگی گزارنا پسندیدہ نہیں ہے۔ایسی حالت میں خاتمے کو میتہ الجاہلیہ (جاہلیت کی سی موت) سے تعبیر کیا گیا۔ اجتماعیت ہوگی تو لازما اس کا ایک امیر اور سربراہ ہوگا جو اس کی قیادت کا فریضہ انجام دے گااور عوام اس کی راہ نمائی میں اپنا سفر حیات جاری رکھتے ہوئے منزل کی طرف کام یابی کے ساتھ گامزن ہوں گے۔ قیادت وسربراہی کی اس ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے آپﷺکا ارشاد ہے: اذاکان ثلاثة فی سفر فلیومراحدہم(ابوداود) جب تین آدمی سفرمیں ہوں تو ان میں ایک کو امیربنالیناچاہیے۔
ذمہ داری کا #احساس
قوم کا سربراہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ قوم کی خیر خواہی کرنا ،ہر طرح کی ضرویات کا خیال رکھنا اور اس کی بہتری کی فکر کرنا ،اس کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ عین فرض منصبی ہے۔ اسے اس کا احساس ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: والذین ہم لامانٰتہم وعہدہم راعون (مومنون)
امانتیں اللہ کی ہوں یا لوگوں کی، اسی طرح عہد اللہ کے ہوں یا لوگوں کے ان کا خیال رکھنا مومن کا وصف ہے۔ ذمہ داری قبول کرنا بھی اللہ اور لوگوں سے عہد ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: لا ایمان لمن لا امانة لہ، ولا دین لمن لا عہد لہ (ابن ماجہ) اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو اور اس شخص میں دین کا پاس ولحاظ نہیں جس کے اندر عہد کی پاس داری نہ ہو۔
ہم نے کلمہ پڑھ کا اللہ اور اس کے رسول سے کچھ عہد کرلیا ہے اس کلمے کی برکت سے ہمارے کاندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری آن پڑھی ہے اور وہ ذمہ داری وہی ہے جو پہلے انبیائے کرام کی ہوتی تھی لیکن اب اللہ نے اس امت کو اس ذمہ داری کے لئے چن لیا ہے، چنانچہ کلمہ پڑھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہو گئے اور بس۔ بلکہ کلمہ پڑھ کر ہم نے عہد کرلیا کہ ہم نبیوں والا کام کریں گے ، اگر ہمیں اس کا احساس نہیں تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد ہے: الاکلکم راع وکلکم مسﺅل عن رعیتہ۔(متفق علیہ) تم میں کا ہرشخص ذمہ دار ہے، ہرایک سے اس کی رعیت کے بارے باز پرس ہوگی۔
ایک روایت میں ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اس نے اس کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا اللہ اس پر جنت کو حرام کردیگا۔(بخاری جلد2)
ایک روایت میں ہے جو نگران اپنے ماتحتوں سے خیانت کرے وہ جہنم میں جائے گا۔(مسند احمد)
ایک روایت میں ہے جو آدمی دس آدمیوں پر بھی نگران بنادیا گیا قیامت کے دن اس طرح پیش کیا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے پھر اس کا عدل اسے چھڑائے گا یا اس کا ظلم اسے عذاب شدید میں ڈال دے گا۔ (السنن الکبریٰ بیہقی)
احساس جوابدہی کا یہی وہ محرک تھا جس نے صحابہ کرامؓ کو ذمہ دارشخصیت بنادیا، جو دنیاوالوں کے لیے نمونہ بنے۔ پھر دنیا نے آپﷺکے تربیت یافتہ خلفائے راشدین کا دور بھی دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب امیر بنے تو ان کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ رعایا کے احوال سے نہ صرف باخبر رہتے تھے بلکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود پیٹھ پر غلوں کا بوجھ اٹھالیتے تھے۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے قائد سرور عالم کو بدست خودخندق کھودتے دیکھا تھا۔
1۔یہی احساس حضرت عمررضی اللہ عنہ کو رات سونے نہیں دیتا تھا، چنانچہ وہ رات کو گشت کرتے تھے، ایک دن ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز آئی، گھر والوں سے پوچھا تو پتا چلا بچے بھوکے ہیں اور گھر میں کچھ کھلانے کے لئے نہیں، ماں نے بچوں کو بہلانے کے لئے خالی دیکچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے کہ کھانا پک رہا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر فورا واپس آئے اور غلے کی ایک بوری اپنے کندھوں پر اٹھائی، خادم نے کہا میں اٹھاتا ہوں تو فرمایا قیامت والے دن سوال مجھ سے ہوگا تم سے نہیں اس لئے میں خود ہی اٹھاوں گا۔ بوری اس گھر میں پہنچائی، پھر جتنی دیر ان کی ماں کھانا تیار کرتی رہی اتنی دیر بچوں کے سامنے ایسے بیٹھ گئے جیسے کوئی جانور بیٹھتا ہے، کھانا تیار ہوا، بچوں نے کھایا اور پھر جب تک بچے ہنسی خوشی کھیلنے نہیں لگے وہیں رکے رہے۔
2۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے زخمی اونٹ کا زخم دھورہے تھے اور فرمارہے تھے کہ میں ڈرتا ہوں قیامت والے دن مجھ سے اس زم کی پوچھ نہ ہو۔(تاریخ الخلفا110)
3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک باغ میں گیا وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ:
عمر۔۔۔خطاب کا بیٹا۔۔۔امیرالمومنین کا منصب۔۔۔واہ کیا خوب۔۔۔اے عمر اللہ سے ڈر ورنہ سخت عذاب ہوگا تجھے۔(تاریخ الخلفا102)
یہ وہی عمر ہیں جن کے بارے حضور نے فرمایا: اللہ نے عمر کے دل اور زبان پر حق جاری کردیا ہے(ترمذی)
4۔ ایک بار آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی ے کہا کچھ نصیحت فرمائیں۔ تو فرمایا: سنو جب میں نے دیکھا میرے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے تو مجھے دور دراز کے بھوکوں ضرورت مندوں اور مفلسوں کا خیال آیا، اور میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قیامت والے دن اللہ مجھ سے میری رعایہ کے بارے پوچھے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان مفلوک الحا ل لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دیں گے۔ یہ سوچ کر میرے دل میں خوف طاری ہوگیا کہ اللہ میرا کوئی عذنہیں قبول کرے گا۔ پھر یہ سوچ کر مجھے خود پر ترس آیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اب میں اس حقیقت کو جتنا یاد کرتا ہوں اتنا ہی احساس ذمہ داری بڑھتا چلا جاتا ہے۔( تاریخ الخلفا 189)
جب ایک ذمہ دار شخص کا احساس ذمہ داری ختم ہوتا ہے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں، مامورین اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں، غیر فعالیت پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا ہوگاکہ آیا ہماری قربانی اللہ کے لئے ہے یا نہیں۔
سوچنے کی تین باتیں
دین کے کاموں میں ایک فعال اور متحرک مسلمان کے لئے مایوسی کے ان اندھیروں میں امید کی تین کرنیں روشن ہیں۔
1۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان دوسرے انسانوں کی ہدایت، اور اخروی نجات کا ذریعہ بن کر اپنے لئے صدقہ جاریہ کا سامان بنا لیتا ہے۔
2۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان اپنے دوسرے رفقاءکے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ایثار وقربانی سے دوسرے رفقاءکو بھی قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلے کی فضا قائم ہوتی ہے۔
3۔ چونکہ محاسبہ اخروی انفرادی ہوگا،(وکلہم آتیہ یوم القیامة فردا۔مریم) اس لئے ایک فعال اور متحرک مسلمان اللہ کہ سامنے کہہ سکے گا کہ اے اللہ میں نے اپنے حصے کا کام پورا کیا تھا۔
اس کے مقابلے میں وہ مسلمان جو حقیقی عذر کے بغیر غیر فعال ہیں انہیں بھی تین باتیں سوچنا چاہیے کہ:
1۔ اللہ نے اس پر کتنا بڑا احسان کیا کہ اسے مسلمان بنایا، قرآن وسنت کی روشنی میں فرائض دینی کے ایسے تصور کا فہم دیا جو قرآن وسنت کی واضح تعلیمات پر مبنی ہے، پھر توفیق عطا فرمائی کہ ان فرائض کی ادائیگی کے لئے تنظیم میں شامل ہو۔ اس کے بعد اب غیر فعال ہونا اللہ کے احسانات کی ناشکری ہے، اور اللہ کا فرمان ہے: لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم فان عذابی لشدید۔
2۔ غیر فعال ساتھی فرائض دینی میں کوتاہی کرکے نہ صرف خود گناہ گار ہوتا ہے بلکہ دوسرے ساتھیوں کو بھی مایوس کرتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ تنظیم میں تو حصول ثواب کے لئے آئے تھے لیکن اب اپنی ذمہ داری سے کوتاہی اور دوسرے ساتھیوں کی حوصلہ شکنی کرکے وبال لپیٹ رہے ہوں۔؟
3۔ مسلسل کوتاہی بھی بہت بڑی محرومیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
تین ہی بڑی محرومیاں
1۔یاایہاالذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم، واعلموا اَن اللہ یحول بین المرء وقلبہ وانہ الیہ تحشرون(انفال24)۔
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو لبیک کہو اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جبکہ وہ اللہ تمہیں پکارے تاکہ اس کے ذریعے سے وہ تمہیں زندگی دے، جان لو کہ اللہ حائل ہو جایا کرتا ہے بندے اور اس کے دل کے درمیان اور اسی کی طرف تم سب جمع کیے جاو گے۔
2۔واللہ الغنی وانتم الفقراءواِن تتولوا یستبدل قوما غیرکم، ثم لایکونوا امثالکم(محمد38)۔
ترجمہ: اور اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو اور اگر تم نے پیٹھ دکھائی تو وہ بدل کر لے آئے گا تمہارے سوا کسی اور قوم کو اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوگی۔
3۔رب لولااخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین(منافقون10)۔
ترجمہ: اے میرے پروردیگار مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہیں دے دیتا کہ میں صدقہ کرلوں اور ہو جاوں بالکل نیک۔لیکن پھر مہلت نہیں ملے گی۔
Syed Abdulwahhab Sherazi
#nukta #نکتہ #اسلام #دین
12-22-2016-ehsas-e-zimmadari-1 12-22-2016-ehsas-e-zimmadari-2

changaiz-khan
گذشتہ کچھ عرصے سے پوری دنیا میں اسلام دشمنوں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہاءکردی گئی ہے۔کچھ ملکوں میں براہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور کچھ ملکوں مثلا پاکستان وغیرہ میں کافروں کے ایجنٹ نہتے شہریوں، تعلیمی اداروں کے بچوں اور بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب بچوںاور بے گناہوں کے تڑپتے لاشے آسمان سے ایسے عذاب کو کھینچ لائیں گے جو اسلام دشمنوں کو خَس وخاشاک کی طرح بہالے جائے گا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، اللہ تو بے گناہ اور مظلوم کافروں کی آہوں اور سسکیوں پر بھی ظالم مسلمانوں سے ایسا انتقام لیتا ہے کی تاریخ اسے یاد رکھتی ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ میں چنگیز خان اور ہلاکو خان کی مہموں کوبدترین ظلم وسربریت سے یاد کیا جاتا ہے لیکن اس کے پس منظر کو دیکھا جائے توایسی حیرت انگیز باتیں سامنے آتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے کہ اللہ کا قانون تمام ظالموں کے لئے ایک جیسا ہی ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔
#چنگیز خان نے مغولستان کی جب بہت ساری چھوٹی چھوٹی ریاستوں کوختم کرکے ایک ریاست قائم کرلی تو اس نے مناسب سمجھا کہ مسلمانوں کے حکمران سلطان محمد خوارزم شاہ سے دوستی اور امن معاہدے کرلیے جائیں تاکہ آپس میں تجارت بھی کی جاسکے۔ چنانچہ چنگیز خان نے سلطان کو دوستی کا خط لکھا اورپھر دونوں مملکتوں میں تجارت بھی شروع ہوگئی۔پھرسلطنت #عباسیہ کے خلیفہ ناصرالدین عباسی نے چنگیز خان کو خط لکھا کہ آپ سلطان خوارزم شاہ پر حملہ کردو میں تمہارا ساتھ دوں گا، لیکن چنگیز خان نے کہا میں نے دوستی کرلی ہے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔اس کے بعد چنگیز خان نے سلطان کی طرف اظہار محبت سے بھرا ایک اور خط لکھ کر اپنا سفیر تاجروں کے قافلے کے ساتھ روانہ کیا، لیکن راستے میں سلطان کے نائب نے اس #سفیر سمیت تمام تاجروں کو جاسوس قرار دے کرقتل کردیا اور تمام سامان بھی لوٹ لیا۔اتنے بڑے واقع کے بعد بھی چنگیز خان مشتعل نہیں ہواپھرایک اور خط سلطان کو لکھا کہ تمہارے نائب نے بڑا ظلم کیا ہے بے گناہوں کو قتل کیا ہے، لہٰذا اسے سزا دو۔لیکن بدقسمتی دیکھیے سلطان خوازم شاہ نے اس خط کو پڑھتے ہی خط لانے والے سفیر کو بھی قتل کردیا۔اب کی بار بھی چنگیز خان مشتعل نہیں ہوا اور ایک تیسرا خط لکھا کہ بادشاہوں کے لائق نہیں کہ وہ سفیروں کو قتل کریں ایسا کرنا آپ کے شایان شان نہیں۔ یہ خط جب سلطان خوارزم شاہ کو ملا تو اس نے پھر وہی حرکت کی یعنی خط لانے والے اس تیسرے سفیر کو بھی قتل کردیا۔چنانچہ اب مشیت الٰہی میں یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ کافروں کے ذریعہ فاسق مسلمانوں کو سزا ملنی چاہیے۔چنگیز خان غم.اور غصے کی حالت میں رات کی تاریکی میں اکیلا ایک پہاڑ پہ چڑھا اور آسمان کی طرف منہ کر کہ بولا ـ
اے مسلمانوں کے اللہ ـ تیرے ماننے والوں نے میرے ساتھ دھوکا اور میری رعایا کے ساتھ ظلم کیا ـ مجھے پتہ ہے کہ تو مظلوم کی دعا رد نہیں کرتا چاہے وہ مسلمان نہ ہو ـچنانچہ میں ایک کافر ـ تموجن عرف چنگیز خان آج تجھ سے مدد مانگتا ہے تاکہ ظالموں کو ان کے کیئے کا مزہ چکھا سکوں ـ۔ چنگیز خان نے لشکر تیار کرنا شروع کیا۔ یہاں سوچنے کی بات ہے کہ مسلمان بادشاہ کیسی نالائقی کا مظاہرہ کرتا ہے اور کافر بادشاہ کن مجبوریوں میں حملہ کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔چنانچہ چنگیز خان مغلوں کا لشکرعظیم لے کر ایران اور ممالک اسلامیہ کی طرف روانہ ہوا، اب سلطان خوارزم شاہ نے بجائے مقابلہ کرنے کے فوج کمانڈروں کے حوالے کرکے بھاگنا شروع کردیا، چنگیز خان اس کا پیچھا کرتا رہا، سلطان کبھی سمرقندبھاگتا تو کبھی ہرات، کبھی بلخ تو کبھی ماوراءالنہر۔ سلطان کی اس بزدلی کو دیکھ کر چنگیز خان اور دلیر ہوگیا۔ کئی ملکوں میں بھگاتے بھگاتے بالاخر اکثر شہر چنگیز خان نے اپنے قبضے میں لے لیے، اس کے بعد خراسان،سمرقند،بخارا،ہرات وغیرہ میں چنگیزخان نے اتنا خون بہایا کہ کسی نفس کو زندہ نہیں چھوڑا عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کی گردنیں کاٹی گئیں، یہاں تک کہ چنگیز خان نے یہ حکم بھی دیا کہ شہر کے پرندوں کو بھی قتل کردو کوئی نفس زندہ نہیں ہونا چاہیے اور پھرایسا ہی کیا گیاکسی کو زندہ نہیں چھوڑا۔چنگیز خان کی اتنی دہشت تھی کہ ان کی کوئی عورت کسی گلی میں داخل ہوتی وہاں اگر سو مسلمان کھڑے ہوتے تو وہ ان کو کہتی ابھی یہی رکو میں تلوار لے کر آتی ہوں اور تمہیں قتل کرتی ہوں، چنانچہ وہ جاکرتلوار لاتی اور ایک ایک مسلمان کو ذبح کرتی لیکن کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ اور مقابلہ کرتے تو بھی کیسے کرتے، یہ تو اللہ کا عذاب تھا، اللہ کے عذاب کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔
دنیائے اسلام کا عظیم حادثہ بغداد کی تباہی تھا جو چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ یہاں بھی مسلمانوں کے بادشاہ کی نالائقی اس سانحے کی وجہ بنی، بادشاہ کے وزیرعلقمی نے خود ہلاکو خان کوحملے کی دعوت دی،ہلاکوخان نے بغداد پر حملہ کرکے ایک کروڑ چھ لاکھ انسانوں کو ذبح کیا، دریائے دجلہ کا پانی خون سے سرخ ہوکربہہ رہا تھا، عورتیں سرپر قرآن رکھ کر پناہ مانگ رہی تھیں لیکن تاتاریوں نے کسی کو نہیں بخشا، وہ منظر دہرایا گیا کہ کوئی نفس زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ چاہے بچہ ہے یا بوڑھا سب کو قتل کردو، ایک دن کے بچے کو بھی ذبح کردو۔ ہلاکوخان نے بادشاہ مستعصم کو زندہ گرفتار کرلیا۔ کئی دن تک خونرزیز جاری رہی، کیاسردار اور کیا علماءسب کو لائنوں میں کھڑا کرکے باری باری ذبح کیا گیا۔خلیفہ نے لاکھوں لوگوںکو اپنی آنکھوں سے ذبح ہوتے دیکھا، جب سب انسان ختم ہوگئے پھر ہلاکوخان شاہی محل میں داخل ہوا، خلیفہ کو طلب کیا اور کہاہم تمہارے مہمان ہیں کوئی ضیافت کرو۔خلیفہ اتنا کانپ رہا تھا کہ خزانے کے تالے نہیں کھول سکتا تھا،تالے توڑ کرخزانہ نکالا گیا، پھر ہلاکوخان نے وہ خزانہ اپنی فوج میں تقسیم کردیا اور کہایہ خزانہ توویسے بھی ہمارا تھا اب وہ خزانہ جو تم نے زمین میں دفن کیا ہوا ہے وہ بھی نکالو، خلیفہ نے اس کا پتا بتایا تو زمین کے اندر سے سونے جواہرات کے بڑے بڑے حوض نکلے۔پھرخلیفہ کو ایک کمرے میں بندکردیا گیا، خلیفہ نے کہا مجھے بھوک لگی ہے، ہلاکو خان نے حکم دیا ایک پلیٹ میں سونے کے جواہرات اور اشرفیاں اس کو کھانے کے لئے دی جائیں۔ خلیفہ نے کہا یہ میں کیسے کھاوں، ہلاکو خان نے کہاجس چیز کو تم کھا نہیں سکتے اسے اتنا سنبھال کر کیوں رکھا تھا، اگر اپنی عوام اور سپاہیوں پر خرچ کرتے تو وہ آج تمہاری طرف سے مقابلہ بھی کرتے۔بالاخر خلیفہ کو ایک بوری میں بند کرکے لاتیں اور مکے مارمار کرختم کردیا گیا۔دراصل باپ کے بعد بیٹا حکمران اور پھر پوتا حکمران کی ایسی روش چل نکلی تھی کہ یہ عقیدہ بن گیا تھا کہ خاندان عباسیہ کے علاوہ کوئی شخص خلیفہ بن ہی نہیں سکتا۔اس خطرناک اور نازک ترین حالت کی اصلاح آخر اللہ تعالیٰ نے خود ہی کی کیونکہ مسلمانوں کی حالت انتہائی پستی کو پہنچ چکی تھی۔چنگیز خان اور ہلاکوخان غیرمتمدن، جاہل،اور وحشی لوگ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو فاجر مسلمانوں کا سزا دہندہ بناکرنازل کردیا۔چنگیز خان اور ہلاکوخان کی خونریزیاں درحقیقت ایک ڈاکٹر سرجن کی خون ریزی سے بہت مشابہ تھیں، جس طرح ایک سرجن گندے پھوڑے میں زخم لگا کر گندہ خون باہر نکالتا ہے اسی طرح چنگیزخان مشیت الٰہی سے امت مسلمہ کے لئے سرجن بن کرآیا اور گندہ خون بہاکرصاف کردیا۔ پھر یہی لوگ بعد میں اسلام قبول کرکے نہ صرف مسلمان ہوگئے بلکہ بڑے بڑے فاتح بنے، چنانچہ قرآن میں اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوگیا کہ اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لاکر کھڑا کردے گا اور پھر اپنے دین کا کام ان سے لے گا۔
#نکتہ #nukta
Syed Abdulwahhab Sherazi